Noor jahan











 : میرا سوہنا شہر قصور نی ایدیاں دھماں دور دور نی گانے والی عالمی شہرت یافتہ ملکہ ترنم نورجہاں جب اپنے  آبای قصبے قصور میں  20 ستمبر 1920 میں پیدا ہوئیں تو کسی کو کیا پتہ تھا کہ یہ ایک عام سے چھوٹے سے گھر میں جنم لینے والی بچی  اپنے جادوئ فن سے اس محلے اس شہر بلکہ اپنے ملک کا نام پوری دنیا میں روشن کرے گی ۔ ۔ ۔ پچھلے دنوں مجھے اس محلے اور اطراف میں خاصا وقت بتانے کا موقع ملا وہاں کے لوگوں سے گھلنے ملنے گپ شپ کرنے اور اس محلے سے وابستہ قصے کہانیاں سننے کا اتفاق ہوا ۔ یہ میرے لیے ایک روحانی تجربے سے کم نہ تھا مجھے ایسی جگہوں کا تاریخی رومانس بہت  fascinate  کرتا ہے یہ پرانا محلہ کم و بیش ویسا ہی ہے جیسا نورجہاں کی پیدایش کے وقت تھا کہتے ہیں کہ نورجہاں نے پانچ سال کی عمر سے ہی فن گائیکی سے وابستگی اختیار کر لی تھی کچھ ہی عرصے بعد یہ خاندان لاہور شفٹ ہوگیا اور وہاں سے کلکتہ پھر  بمبئ . .  تقسیم سے پہلے نورجہاں ایک چمکتا دمکتا ستارہ بن کر پورے بر صغیر میں جگمگ کر رہی تھیں اس محلے میں شاید ہی اب کسی کا روزگار  رقص وموسیقی سے وابستہ ہو مگر ان کی نسلیں اب بھی وہیں آباد ہیں اور سلای کڑھای کا کام کرتے ہیں  اس محلے کے سازندے بھی لاہور   بمبئ اور کلکتہ چلے گئے تھے مگر  ان میں سے بیشتر تقسیم کے بعد واپس اگئے  نور جہاں نے بھی لاہور کو ہی اپنا مسکن بنایا  جہاں لبرٹی سے ملحق سڑک شاہراہ نورجہاں ان کے اس گھر کی یاد دلاتی ہے جو بد قسمتی سے اب بیچ دیا گیا ہے  نورجہاں کے بچپن کے  بیشتر لوگ تو اس جہان فانی کو خیر باد کہہ چکے ہیں مگر ان کے ادھیڑ عمر بچوں کو پزرگوں کی ساری باتیں ساری روایات ازبر ہیں نورجہاں کے ابائ گھر میں ان کی والدہ نے اپنی عمر کا آخری حصہ گزارا وہاں کی بوڑھی عورتوں کے مطابق نورجہاں بھی ماں سے ملنے آتی رہیں مگر کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ بس دو ایک بار ہی انہیں یہاں آتے جاتے دیکھا گیا اس پرانے محلے میں  ہم کشیدہ کاری اور روایتی قصوری ملبوسات کی چھوٹی بڑی دکانوں پر مشتمل  آڑھے ترچھے بازاروں سے گزرتے ہوئے  پرانی وضع کی گلیوں سے  ہوتے اس گلی میں داخل ہوئے جس کے اختتام پر نورجہاں کا آبای گھر ہے یہاں گلی بند ہوجاتی ہے یہ گھر اس گلی کے دوسرے گھروں سے قدرے بڑا ہے لیکن اس کا رقبہ آٹھ سے دس مرلے پر ہی مشتمل ہوگا یا شاید اس سے کچھ کم اس گھر کے دوحصے ہیں ایک مرکزی گھر جو بالکل سامنے سے نظر آتا ہے گلی میں داخلے کے وقت.  ایک اس سے ملحق حصہ جسے نورجہاں کی والدہ فتح بی بی  نے اہنی زندگی میں ہی مسجد امام بارگاہ میں بدل دیا تھا اب یہ ایک چھوٹی مگر ایک کمرے اور صحن کی عبادت گاہ ہے ان کی وصیت جو محلے والوں نے بتائ کے  مطابق انہوں نے اپنا گھر بھی  امام با رگا ہ کے لنگر خانے کے لیے مختص کردیا تھا  مگر کچھ عرصہ پہلے نورجہاں کی ایک بیٹی جو شاید بٹ جیولرز کے بیٹے سے بیاہی تھین کے بچوں نے اپنے قبضے میں لے لیا میرا خیال ہے یہ احمد علی بٹ کے خاندان نے کیا اب اس ہر اسی خاندان کا قبضہ ہےاس کا اندازہ گھر کے باہر کسی بٹ صاحب کے نام سے لگی نیم پلیٹ سے بھی  ہوتا ہے ارسلان جو امام۔بارگاہ کے منتظم کا بیٹا ہے کہ مطابق انہوں نے بہت کوشش کی کہ نورجہاں کی والدہ عیدن بائ کی وصیت پر عمل کیا جائے مگر وارثان رضامند نہ ہوئے بات عدالت تک جاپہنچی اور عدالت نے امام بارگاہ کے منتظمیں کے خلاف فیصلہ دیا ارسلان نے بتاپا کہ امام بارگاہ کے منتظمین نے نورجہاں کے وارثوں کو پیسوں کی آفر بھی کی پچیس لاکھ تک  مگر وہ رضامند نہ ہوئے  محلے والوں نے ہمارا سواگت اتنے خلوص اور پیار سے کیا جیسے ان کا کوی گم گشتہ رشتے دار ملنے آگیا ہو.  نورجہاں کا گھر اب باہر سے نئے رنگ و روغن سے آراستہ نظر آتا ہے مگر اندرونی حالت بہت بری ہے چھت گر چکی ہے اور اندر ملبے کا ڈھیر جمع ہے اگر اپ کو کبھی پنجاب کے چھوٹے قصبوں میں جانے کا اتفاق ہو تو وہاں دو طرح کا طرز تعمیر ملتا ہے ایک وہ جو گوروں نے گلی محلے بازار بنائے ہیں اور دوسرا گوروں سے پہلے کا طرز تعمیر جس میں مغلوں اور بعد ازاں سکھوں نے جو تعمیرات کیں قصور شہر  کی بنیاد تو مغل دور میں پڑی تھی مگر اس کو شہر سکھوں نے ہی بنایا تقسیم سے پہلے اسے لٹل بمبئ کہا جاتا تھا اور قصور ریلوے سٹیشن سے روزانہ ایک ٹرین بمبئ جاتی تھی اس شہر میں پنجاب کے سکھ امرا کی قابل زکر اکثریت آباد تھی  اس دور کی پرشکوہ رہایشی  عمارات اب بھی اسی تمکنت  اور ان بان سے موجود ہیں ایک روایت کے مطابق اپنے زمانے میں تان سین کا گزر بھی یہاں سے ہوا تھا کچھ زبانی روایات کے مطابق انہوں نے یہاں کچھ عرصہ قیام بھی کیا تھا ہم نے اس جگہ کی   خاصی تلاش کی مگر  کوی مستند آثار نہ ملے   اگرچہ پٹھان قبایل نے اسے آباد کیا تھا مگر جب بلھے شاہ کو ان کے باغیانہ نظریات کی وجہ سے شہر بدر کردیا گیا اور باباجی نے اس جگہ کو اپنا مسکن بنایا جدید قصور اسی ویرانے کی نئ شکل و صورت ہے اور جہاں سے بابا جی کو دیس نکالا دیا گیا وہ جگہ اب کھنڈرات بن گئے ہیں اسی محلے کے قریب وہ قبرستان ہے جہاں فتح بی بی  کی آخری آرام گاہ واقع ہے نورجہاں کی والدہ کی قبر بہت عرصے تک کچی رہی اس کے گرد ایک حصار سا بنا دیا گیا تھا  مگر اسے پکی ہونا  اور کتبہ پچھلے سال نصیب ہوا مگر کتبہ نصب کرنے والے کو ان کی تاریخ وفات یاد نہ تھی کتبے پر عیدن بائ سے بڑا نورجہاں کا نام لکھا ہے ہم نے فاتحہ پڑھی اور محلے والے قریب ہی واقع اس مرد مجاہد کامل شاہ  کے مزار پر لے گئے جس نے پورے علاقے کے ملاوں اور بااثر پٹھانوں کی مخالفت کے باوجود بابا بلھے شاہ کا جنازہ پڑھایا تھا کہا جاتا ہے اس جنازے میں اسی محلے کے فن موسیقی سے وابستہ لوگوں نے شرکت کی تھی اسی محلے کے ساتھ خواجہ سراوں  کا قدیمی محلہ ہے ان کے آبا و اجداد نے ہی باباجی کو بغیر نماز جنازہ کے دفن کرنے کے خلاف اواز اٹھای اور نماز کا اہتمام کروایا کیا پتہ اسی لیے اس محلے میں سروں کی راجکماری پیدا ہوئ اور اس محلے کو شہرت دوام حاصل ہوی ہو .....

Comments